ماحول صاف، زند گی آ سان
ھمارے ارد گرد جو کچہ موجود ہے وہ ماحول کہلاتا ہےمثلا جہاں ھم رھتے ہیں اگر اس کے ارد گرد صفائی ہے،پودے اور درخت ہیںشور شرابانہیں، پانی کی نکاسی کامناسب انتظام ہے ، ادھر اُ دھر کوڑا کر کٹ بکھرا ہوا نہیں بلکہ کوڑے دان میں ہے تو ہم کہیں گے کہ ہمارا ماحول صاف ستھرا ہے ۔
اس کے برعکس اگر ہمارے ارد گرد صفا ئی نہ ہو، چھلکے ، کاغز اور پلاسٹک کے لفافے بکھرے ہوئے ہوں ، پانی کی نکاسی بند ہو اور گلی یا سڑک پر پانی کھڑا ہو جس کی وجہ سے جگہ جگہ کیچڑ اور بد بو پھیلی ہو ، تو ہم کہیں گے کہ ہمارا ماحول آ لودہ ہے۔
ماحول کی آلودگی کی اقسام یہ ہیں:
آبی آلودگی:
جھیلو ں ، تالابوں ، دریاؤں اور سمند ر میں مچھلیا ں ، مینڈ ک ، کچھوے اور دیگر بے شمار آبی جا ندار رہتے ہیں ۔ اس پانی میں کارخانوں ، فیکٹر یو ں یا آبادی کا استعما ل شدہ غلیظ پانی شامل ہو جائے تو وہاں کی آبی مخلوق کو خطرہ ہو جائے گا اور وہاں کا ماحول آلودہ ہو جائے گا۔ اس قسم کی آلودگی آبی آلودگی کہلا ئے گی۔
فضائی آلو دگی:
ہوا میں گردو گبار اور د ھواں زیادہ ہو جائے اور جانداروں کا سانس لینا مشکل ہو جائے تو وہ فظائی آلودگی کہلائے گی۔
زمینی آلودگی:
اگر کسی جگہ کوڑا کر کٹ بکھرا ہوا ہو، پانی ٹھہر جانے کی وجہ سے کیچڑ ہو اور وہاں مچھر ، مکھی پرورش پا رہے ہوں جس کی وجہ سے ڈینگی اور ملیر یا جیسی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو وہ زمینی آلودگی ہو گی۔
ماحل کو صاف ستھرا رکھنا سب کی زمہ داری ہے ۔ معا شرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ ما حول کو گندا نہ کرے۔ جب بھی کوئی چیز کھائے تو یس کے چھلکے کوڑے دان میں پھینکے۔ ہم اسکول میں ہوں یا گھر میں ، گلی میں ہوں یا بازار میں ہمیں چاہیے کہ صفائی کا خیال رکہیں۔
ہمارے پیارے نبی حضر ت محمد ﷺ نے صفائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فر ما یا ہے
“صفا ئی نصف ایمان ہے۔” لہزا ماحول کو صاف رکھنا ہماری اخلاقی اور مز ہبی زمہ داری ہے