نیکی کر دریا میں ڈال
عبدل بہت سالوں کے بعد حیات محل کے دروازے پر کھڑا تھا۔ اس نے لکڑی کے بڑے سے پھاٹک پر بہت زور سے دستک دی مگر کوئی جواب نہ آیا اس نے دروزاے کو دھکیلا تو وہ کھل گیا۔وہ درواز کھول کر اندر چلا گیا۔حیات محل کا باغ جو کبھی خوشبوؤں اور پھولوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اجاڑ جنگل کا منظر پیش کر رہا تھا۔ عبدل نے زور سے آواز دی کوئی ہے،کوئی ہے مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ باغ کے درمیانی راستہ پہ چلتا ہوا برآمدے میں پہنچ گیا۔مگر پوری کوٹھی میں اسے کوئی آدم نہ آدم زاد نظر آیا۔ اس نے کچھ سوچ کر ہال کا دروازہ کھولا۔ دروازہ کھل گیا۔ ایک بلی میاؤں میاؤں کرتی ہوئی اس کی ٹانگوں سے گزرتی ہوئی باہر چلی گی۔ حیات محل جہاں بہت سے ملازم ہوتے تھے۔ آج اس میں ایک بھوکی بلی کے سوا کوئی نہ تھا۔ ہال میں دونوں طرف کمرے تھے۔ پہلے دو کمرے بالکل خالی تھے۔ جیسے وہ تیسرے کمرے میں گیا ایک عالی شان پلنگ پر کوئی چادر اوڑھے لیٹا تھا۔ قدموں کی آہٹ سن کر پلنگ پر وجود نے کروٹ لی اور بڑی بڑی ویران آنکھوں سے عبدل کو گھورا اور کھڑ کھڑاتی آواز میں پوچھا “کون؟ “عبدل نے کہا سیٹھ صاحب میں عبدل ہڈیوں کے ڈھانچے نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ عبدل کمرے سے نکلا اور تھوڑی دیر میں پانی کا گلاس لے آیا۔ اس نے کمزور بوڑھے کو پانی پلایا۔ بوڑھے نے پوچھا”تم وہی عبدل ہونا کرمو موچی کے بیٹے۔ تم کیوں آئے ہو؟”عبدل نرمی سے کہا جی میں کرمو موچی کا بیٹا ہوں میں تین سال بعد شہر میں آیا ہوں تو آپ سے ملنے چلا آیا میں نے آپکے ایک احسان کا شکریہ ادا کرنا تھا سیٹھ حیات کانپ گیا اور کہنے لگا”مجھ جیسے خود غرض اور ظالم شخص نے آج تک کبھی کسی پر احسان نہیں کیا۔ بلکہ میں نے تو تمھاری ماں کو اس وقت دھکے دے کر اپنی کوٹھی سے نکال دیا تھا۔ جب تمھارا باپ دوا نہ ملنے کی وجہ سے مر رہا تھا اور تم بھوک سے تڑپ رہے تھے۔ آج تم اپنا بدلہ لینے آئے ہو نا؟ “نا نا سیٹھ صاحب یہی تو آپ کا احسان تھا کہ آپ نے اس وقت بھیک نہیں دی۔میرے باپ کا آخری وقت آگیا تھا اور وہ اسی دن مرگیا۔ لیکن آپ کے اس عمل سے میری عزت نفس اور خود داری بیدار ہو گئی۔ میری ماں نے بھی عہد کر لیا کہ وہ کبھی کسی سے ایک پیسے کی مدد نہ مانگے گی۔ ہم دونوں ماں بیٹے نے محنت کی اور آخر کار آج میں اپنی منزل پر پنچ گیا۔ سیٹھ حیات بخش نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور کہا کہ تم غالباً فوج میں ہو اور تمہارے کندھے کے ستارے بتا رہے ہیں کہ تم افسر ہو۔ جی سیٹھ میں میجر ہوں اور آج آپ کو اس ویران محل سے لینے آیا ہوں۔ سیٹھ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ عبدل نے سیٹھ صاحب کو ننھے بچے کی طرح بازؤں میں اٹھا لیا باہر آکر اپنی جیپ میں بٹھایا اور گھر لے گیا۔
میجر عبدل تین ماہ کی چھٹی پر آیا تھا۔یہ تین ماہ گھر والوں نے سیٹھ حیات بخش کی خوب خدمت کی اور سیٹھ حیات بخش تندرست ہوگیا۔ چھٹی ختم ہونے سے ایک ہفتہ پہلے سیٹھ صاحب نے اپنے وکیل کو بلا کر اپنی کوٹھی حیات محل اور دو فیکٹریاں عبدل کے نام کردیں۔مگر عبدل نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سیٹھ میں پاک فوج کا جوان ہوں جس کا مقصد ِ حیات ہر وقت اور ہر حال میں اپنے وطن اور ہم وطنوں کی بغیر کسی لالچ کے خدمت کرنا ہے۔ آپ یہ گھر اور فیکٹریاں “ایدھی فاؤنڈیشن “کے نام لگا دیں تاکہ نہ صرف بہت سے بچوں کی دنیا بلکہ آپ کی آخرت بھی سنور جائے۔
سیٹھ حیات بخش کی آنکھوں میں آنسو آگئے انہوں نے کھڑے ہو کر میجر عبدل کو سیلوٹ کیا اور زور دار نعرہ لگایا۔
میجر عبدل زندہ باد پاک فوج پائندہ باد
نتیجہ: خود غرضی اور ظلم کا بدلہ احسان اور محبت سے بھی دیا جاسکتا ہے۔