علم کی اہمیت و فضیلت
علم ایک لازوال اور قیمتی دولت ہے جو خرچ کرنے سے گھٹتی نہیں، بڑھتی ہے، اسے چور چرا نہیں سکتا، پانی بہا نہیں سکتا اور آگ جلا نہیں سکتی، رشتہ دار تقسیم نہیں کر سکتے، یہ تو صاحب علم کو جلا بخشتی ہے. اسلام نے اس کے حصول کو تمام مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے۔
:اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا
کہ جو حصول علم کے لئے کہیں کا سفر کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمائے گا، اس کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ غار حرا میں آمنہ کے لال محمد بن عبداللہؐ پر سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل ہوئیں وہ تمام کی تمام حصول علم کے ذرائع پر ہی مشتمل ہیں.وہ فرشتے جنہوں نے تخلیق آدم پر اعتراض کیا تھا، ان پر حضرت آدم علیہ السلام کو اسی علم کے ذریعے فضیلت و برتری حاصل ہوئی، وہ عزیز مصر جس نے بے گناہ یوسفؑ کو اپنی بیوی کی الزام تراشی پر نظر زنداں کیا، آخر انہوں نے بھی اسی علم کی بدولت جیل کی لمبی لمبی دیواریں پھاندیں اور مصر کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔
الغرض تمام انبیاء علیہم اسلام کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک خاص علم و فن کی دولت سے نوازا تھا، جس کی وجہ سے وہ انہیں امت میں ممتاز وفائق رہے