غریب سے بدسلوکی کا انجام
ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ ایک غریب فقیرہاتھ میں کشول لیے سٹرک کےکنارے بیٹھابھیک مانگ رہا تھا۔اس غریب کی دونوں ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں۔ جس کی وجہ ہے وہ کوئی بھی مزدوری کا کام نہیں کر سکتا تھا۔ وہ بہت ہی غریب تھا۔وہاں سے ایک دولت مند آدمی کا گزر ہوا۔ فقیر نے اس سے بھیک مانگنے کے لیےکشول آگے کیا تو اس نےاپنی دولت کی اکٹرمیں اس غریب کے کشول کو اپنے ہاتھ سے اس قدر زور سے دھتکارا کہ کشول نیچےگر گیا۔ اس کےبعد اس نے اس فقیرکو برا بھلا کہا اور بھیک دینے سے انکار کر دیا۔
ایک دن اس دولت مند آدمی کے گھر کو چاروں طرف سے ڈاکووں نے گھیر لیا۔ ڈاکووں نے اسے اپنی جگہ پر رہنے کو کہا لیکن وہ اپنا مال بچانے کے لیےڈکووُں کے ساتھ د ست درازی کرنے لگااور ڈاکووُں لے لاکھ کہنے کےباوجود جب وہ نہ مانا تو اس پر ایک ڈاکو کو غصہ آیا اور اس نے اس کی دونوں ٹانگوں پر گولیاں چلا دی ا ور اس کی دونوں ٹانگیں بے کار ہو گئیں اس طرح اب وہ بھی غریب اور دوسروں کا محتا ج ہو گیا۔
اخلاقی سبق
“غریب کے ساتھ بد سلوکی کرنےوالوں کے ساتھ ہمیشہ براہوتا ہے”