حکمت اور دانائی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت جوکہ بہت بوڑھی اور اس کی آنکھوں کا نور بھی اب نہیں رہا تھا ۔ وہ بہت غریب تھی اور اس کے بیٹے کی اولاد بھی نہ تھی ۔ لیکن ہر وقت خدا کی عبادت میں مصروف رہتی ۔ ایک دن وہ بہت پریشان بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک درویش آیا اور اُس نے اِس عورت سے پریشانی کی وجہ پوچھی ۔ اس نے سب کچھ بتا دیا۔ درویش نے کہا آج تو جِس چیز کے لیے بھی دُعاکرے گی وہ قبول ہوگی ۔ وہ عورت بہت پریشان ہوئی کہ وہ کس چیز کےلیے دُعا مانگے۔ اچانک اُسےخیال آیاکیوں نہ وہ ا یسی دُعا مانگے جس سے اُس کی خواہش پوری ہوجائے۔ اس بوڑھی عورت نے بہت سوچ سمجھ کر درویش سے کہا میں چاہتی ہوں کہ “میں اپنے پوتے کو سُونے کے جھولے میں کھیلتا دیکھوں۔”
اگرچہ اس نے ایک ہی دُعا مانگی لیکن اس نے حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے اللہ تَبارک وتعالیٰ کی تینوں نعمتیں حاصل کرلیں۔
اخلاقی سبق:-
“سوچ سمجھ کر بولنا کامیابی کی علامت ہے۔”