کہانی:۔
ایک بادشاہ تھا وہ بہت ظالم تھا اوراپنی رعایا پر ظلم کرتا تھا اوربہت لالچی تھا وہ اپنی رعایا سے پیسے نکلوانے کے لیے نئے نئے طریقے سوچتارہتا تھا۔وہ بہت تکبر کرتا تھا۔وہ خود پر فخر کرتا تھا کہ وہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ امیر ہے۔اس کی ایک بیوی اور تین بیٹیاں تھیں۔اس کی بیوی اسے ہمیشہ سمجھاتی تھی کہ وہ ایسا نہ کرے۔وہ اپنی رعایا پر رحم کرے اُن سے ان کا حق نہ چھینے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اُسے کسی کی بات سمجھ نہ آتی۔وہ کہتا تھا کہ میں دنیا کا سب سے زیادہ امیر بننا چاہتا ہوں یہ ساری دنیا میرے قبضہ میں ہو لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ ساری کائنات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ سب اپنی عارضی خواہش پوری کرنے میں لگا رہتا تھا۔
ایک دن اُس کے دربار میں ایک فقیر آیا اُس نے اس سے کہا کہ وہ کچھ پیسے یا کچھ کھانے کو دے دے اُس کے بچے دو دن سے بھوکے ہیں لیکن اس ظالم بادشاہ کو کہاں ترس آیا اُس نے اِسے دھکے دے کر اپنے دربار سے نکلوایا۔اسے کہا کہ تیرے بچے مرتے ہیں تو مریں مجھے اس سے کیا۔فقیر نے اُسے بددعا دی کہ تو کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو گا۔تو بھی کبھی میری طرح ایسے ہی دھکے کھائے گا۔
رعایا بادشاہ سے سخت بیزار تھی۔ایک دفعہ دشمن نے بادشاہ کی سلطنت پر حملہ کر دیا اور بادشاہ کو شکست ہوئی اور وہ تخت و تاج اور مال و دولت سے محروم رہ گیا۔اب اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اور اس کے اہل و عیال در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے۔یہاں تک کہ نوبت فاقوں تک آگئی اور وہ بھیک مانگ کر گزارہ کرنے لگے۔
ایک دن وہ بھیک مانگتا ہوا کسی محل میں جا پہنچا اُس نے دیکھا کہ تخت پر وہ فقیر بیٹھا تھا جسے اس نے دھکے دے کر اپنے محل سے نکلوایا تھا اسے وہ وقت یاد آگیا وہ بہت شرمندہ ہوا اور اندر ہی اندر خودکو کوسنے لگا کہ یہ سب اس کے تکبر کی سزا ہے اور اس تکبر نے اس کو بادشاہ سے فقیر بنا دیا۔وہ اس کے قدموں میں جا گرا اور معافی مانگنے لگا۔وہ فقیر جو بادشاہ بن گیا تھا بہت رحم دل تھا۔اُس نے بادشاہ کو معاف کر دیا اور اُسے گلے سے لگا لیا۔
نتیجہ:
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر