(سائنس کا علم)
انسانی تاریخ کا کوئی دور بھی سائنس کے علم سے خالی نہیں۔پتھروں کو رگڑ کر آگ جلانے، اپنے بدن کو کپڑوں سے ڈھانپنے اور دیگر چیزوں کا شعور حاصل کرنے سے انسان نے سائنس کے علم کو سیکھا گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن طریقوں سے انسان نے اپنے شعور کی منزلیں طے کیں وہ طریقے سائنس کہلاتے ہیں۔
جیسے جیسے انسان نے عقل اور شعور کی بنیاد پر سائنس میں ترقی کی ویسے ویسے وہ سمندر کی گہرائیوں میں چُھپے خزانوں تک جا پہنچا۔
انسان نے اپنی سائنسی ایجاد ات کے سفر کے آغاز میں پہیہ دریافت کیا تو ایک انقلاب برپا ہو گیا۔سفری سہولتوں کے اعتبار سے ہی دیکھا جائے تو آج کا انسان ،ماضی کے انسان سے کوسوں آگے نظر آتا ہے۔ اونٹوں،گھوڑوں،گدھوں اور جانوروں پہ سواری کرنے والا انسان سفری مصیبتوں کا شکار تھا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کئی دن لگ جاتے تھے۔
اب وہ سفرسائنس کی بدولت گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔
انسان نے سائنس کے علم کی وجہ سے بسیں،کاریں،ریل گاڑیاں،ہوائی جہاز بنا لیے ہیں۔سائنسی ایجادات کی وجہ سے ہماری روزمرہ زندگی آسان ہو گئی ہے۔
جو کام دنوں، مہینوں اور سالوں میں ہوتے تھے اب سائنسی ترقی کی وجہ سے گھنٹوں میں کیے جا سکتے ہیں۔
ہماری زندگی کے قریباًہر شعبے میں مختلف کاموں کے لیے کمپیوٹر استعمال ہو رہا ہے۔
چند سال پہلے ایک ملک سے دوسرے ملک خط بھجوانے پر کئی ہفتے لگ جاتے تھے۔اب کمپیوٹر کی مدد سے ای میل کے ذریعے یہ پیغام چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچا ئے جا سکتے ہیں۔
سائنس کی ترقی کی بدولت آج کے دور میں ہمیں پینے کے لیے صاف پانی،دل اور کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کیلئے ادویات دستیاب ہیں۔