دوستو میں گلاب کا پھول ہوں اور آپ کو معلوم ہے دنیا میں میں پھولوں کا بادشاہ ہوں۔آج میں آپ کو اپنی آپ بیتی سنانا چاہتا ہوں کہ کس طرح میں پودے کی شاخ پر کلی اور پھر پھول بنااور آج پتیوں کی صورت بکھرا ہوا کسی قبر پر پڑا ہوں۔اس وقت کو یاد کر رہا ہوں جب مجھ پر جوبن تھااور میرے دم سے باغ میں مہکار اور بہار تھی ۔تو سنو میں پودے کی شاخ پر پھول بن کر مسکرایا پہلے پہل میرے مالک نے ایک پودے کی شاخ کو قلم کی صورت میں کاٹا اور پھر دوسرے پودوں اور پھولوں کی قطار میں زمین کے اندر مجھے گاڑ دیا ۔کچھ عرصہ تک مالی میری دیکھ بھال کرتا اور پانی دیتا رہاپھر آہستہ آہستہ میرے اوپر ننھی کونپلیں نمودار ہوئیں جو آہستہ آہستہ میرے بڑھ کر بڑی شاخوں اور ٹہنیوں میں تبدیل ہوتی گئیں ۔اور میرا قد بڑھتا گیا۔مالک مجھے بڑھتے دیکھ کر بہت خوش ہوتااور میں بھی بہت خوش تھا۔دوسرے پودوں اور پھولوں کے ساتھ ہنستا اور جھومتارہتا۔نہ جانے مالک کے دل میں کیا آیاکہ اس نے مجھے اور میرے ساتھ بہت سے پھولوں کو توڑا۔مجھے بہت تکلیف ہوئی۔میں روتا رہااور فریاد کرتا رہالیکن میری کسی نے ایک نہ سنی ۔مالک نے مجھے ایک ہار میں پرویا اور ایک قبر پر جا کر رکھ دیا۔کچھ دیر تو میری تازگی اور خوبصورتی برقرار رہی۔مگر تھوڑی دیر بعد میں مرجھا گیا اور پتیوں کی شکل میں بکھر گیا۔یہ حقیقت ہے کہ کسی شیے کو بقا نہیں۔ہر شئے کو آخر فنا ہونا ہے۔