گنے کی آب بیتی
میں جب ایک نرم و نازک پودے کی صورت میں زمین کی تہہ سے باہر نکلا تو ٹھنڈی ٹھندی ہوا نے میرا استقبال کیا۔ کبھی دھوپ کبھی چھا وں کبھی سردی تو کبھی گرمی کی شدت کو سہتا ہوا تیزی سے پروان چڑھتا رہا۔ جوں جوں میرا قد بڑھتا گیا تو پیاس کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری پیاس کی شدت کبھی کبھی بارش نے بجھائی تو کبھی ٹیوب ویل کے صاف شفاف اور تازہ پانی سے سیراب ہوا ۔ اسی کیفیت میں نو ماہ بیت گئے۔ آخر کار نومبر کا مہینہ آ گیا۔ ایک دن کھیت میں مزد وروں نے یلغار کیا۔ جس کی زد میں میں بھی آ گیا۔ مجھے کاٹ کر چھیلا گیا اور د وسرے گنوں کے ساتھ ملا کر ایک گٹھا بنایا گیا۔ ٹرالی پر لوڈ کر کے شوگر مل پہنچا دیا گیا۔ جہاں مجھے اپنا انجام نظر آنے لگا۔ میرا رس نکال کر چینی بنائی جائے گی اور میری شناخت کو مٹا دیا جائے گا۔ لیکن مجھے خوشی ہے جس مقصد کے لیے میری تخلیق ہوئی تھی۔ میں انسانیت کی خدمت کا سبب بنوں گا