tree-against-white-background-887508916-5c0f078ac9e77c0001c1bf28

….میں ایک درخت ہوں۔ میرا نام کیکر ہے۔سب سے پہلے میں آپ کو اپنے بچپن کے حالات بتاؤں گا ۔ میں بچپن میں ایک چھوٹا سا پودا تھا۔ اور نرسری میں رکھا گیا تھا ۔ایک دن مجھے ایک بھلے مانس میاں شریف نامی شخص نے اس نرسری سے خریدا اور اپنے گھر کے ایک کونے میں لگا دیا۔ اس گھر میں دو چھوٹے بچے تھے،ایک کا نام کامران اور دوسرے کا نام علی تھا۔ وہ دونوں بچے مجھے صبح شام پانی دیتے تھے ۔میں شب و روز پھلتا پھولتا رہا۔
چند سالوں کے بعد میں ایک تناور درخت بن گیا اور لوگوں کو سایہ فراہم کرنے کے قابل ہو گیا ۔گرمیوں میں لوگ میاں شریف کے گھر آتے اور میرے سایہ میں بیٹھتے تھے۔
مجھے لوگوں کو سایہ فراہم کرتے ہوئے بہت خوشی ہوتی تھی اور میں مسکراتا رہتا تھا ۔میں ان لوگوں کی آپس میں کی گئی باتوں کو سنتا رہتا تھا ۔ایک دن آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور ہر طرف گھپ اندھیرا ہو گیا ۔میاں شریف کے دونوں چھوٹے بچے کالے بادلوں کو دیکھ کر گبھرا گئے اور بھاگ کر اپنی امی کی گود میں بیٹھ گئے ۔ان کی ماں نے ان کو دلاسہ دیا اور کہا بیٹا گبھرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے ہمارے اوپر رحمت فرمائی ہے اور گرمیوں میں بارش کا موسم بنایا ہے۔
تھوڑی دیر گزری تھی کہ بارش شروع ہو گئی اور اس کے ساتھ زور دار آندھی آئی، جس نے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا ۔مجھ بد نصیب کی قسمت اچھی نہ تھی اور میں بھی نیچے گر گیا ۔ مجھے گرا ہوا دیکھ کر میاں شریف، اس کی بیوی اور بچے اداس تھے کیوں کہ ان کا سایہ ختم ہو گیا تھا ۔جو ان کا ساتھ مجھ سے تھا وہ کچھ دیر تک ختم ہونے والا تھا ۔
دوسرے دن مجھے ایک لکڑی لینے والے بڑھئی کے پاس بھیج دیا گیا ۔اس شخص نے میرے ٹکڑے کیے ،جس سے مجھے بہت درد ہوا۔ اب میں کر ہی کیا سکتی تھا اس لئے میں نے تکلیف برداشت کی۔ وہ آدمی مجھے آرے پر لے گیا اور میرے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے ۔ان ٹکڑوں کو بڑھئی اپنی دکان پر لے گیا اور میرے ان ٹکڑوں سے کرسیاں بنائیں۔
ایک دن ایک سکول کا ہیڈ ماسٹر مجھے دیکھنے آیا۔ اس کو میں بہت پسند آئی اور وہ مجھے سکول لے آیا ۔مجھے پہلے تو بہت زیادہ غم تھا کہ میرے ٹکڑے کیے گئے لیکن اب بہت خوشی ہوتی ہے جب چھوٹے چھوٹے بچے مجھ پر بیٹھتے ہیں اور اساتذہ کرام ان کو پڑھاتے ہیں ۔اساتذہ کرام کی میٹھی میٹھی باتیں مجھے بھلی لگتی ہیں اور مجھے سکول میں ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے ۔ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے مجھے نہ کاٹا گیا ہے اور نہ کرسیاں بنائی گئی ہیں، بلکہ میں ویسے ہی ہوں جیسے میں چھوٹا سا پودا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *