ایک پرانی سائیکل کی آپ بیتی
ایک سائیکل پرانے کمرے میں خراب حا لت میں پڑی ہو ئی تھی. سائیکل اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے کہتی ہےکہ مجھے مختلف پر زوں سے ملا کر بنا یا گیا تھا جب مجھے با زار میں لایا گیا تھا تو ایک شریف لڑکے کے ابو نے مجھے خریدا۔وہ لڑکا میرے اُوپر سوار ہو کر اپنے نہا یت ضروری کام کرتا تھا۔
جب وہ مجھے استعما ل کرتا تو مجھے اچھے طرح سے صاف کرتا اور استعمال کرنے کے بعد بھی صاف کر کے ایک کمرے میں کھڑی کر دیتا۔ وہ مجھےغیر ضروری کام کیلئے استعما ل نہیں کرتا تھا۔ ایک دن جب انکے گھر مو ٹر سا ئیکل آئی تو اسکے والد نے مجھے بیچ دیا۔ اسکے بعد مجھے ایک شرارتی بچے نے خریدا۔ وہ سارا دن مجھ پر سوار رہتا مجھے نہ صاف کرتا نہ سا ئے کے تلے کھڑا کرتا۔
میں سارا دن دھوپ میں پڑی رہتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ میری حالت بد سے بد تر ہو گئی۔ ایک دن میرا ایک پینڈ ل ٹوٹ گیااور گھر والوں میں سے کسی نے مجھ پہ توجہ نہ دی۔ وہ بچہ مجھے اسی طرح استعمال کرتا رہا۔ ایک ہفتے بعد میری بریک بھی خراب ہو گئی اور رنگ بھی خراب ہو گیا تھا۔ ایک دن وہ شرارتی لڑکا مجھ پہ سوار ہوکر آ رہا تھا کہ سامنے سے آتی ایک مو ٹر سائیکل سے اسکی ٹکر ہو گئی۔ ہم زور سے گرے اس لڑکے کا بازو ٹوٹ گیا، میری حا لت اور خستہ ہو گئی۔
میری خراب حالت کی وجہ سے اس لڑکے کے باپ نے مجھے کباڑی والے کو بیچ دیا۔ اس کبا ڑی والے نے مجھے باقی سامان کے ساتھ ایک بند کمرے میں پھینک دیا جہا ں میں کئی سالو ں سے پڑی ہوں۔