ایک میلے کا آنکھوں دیکھا حال

0
images (2)

پچھلے سال ہم نے رنگ پور میں میلہ دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ یہ میلہ ہر سال گیارہ مارچ کو ہوتا ہے۔ ہم سب پہلی بار میلہ دیکھنے جا رہے تھے۔ گیارہ مارچ کو صبح سویرے اٹھ کے وضو کیا، نماز ادا کی اور قرآن پاک کی تلاوت کی۔ناشتہ کیا اور تیار ہو کے روانہ ہوئے۔ راستے میں لوکل بسوں کا اتنا رش تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو دھکے دےرہے تھے۔آخرکار ہم وہاں پہنچے گاڑی سے اترے اور میلہ دیکھنے لگے۔
وہاں پر جگہ جگہ جھولے تھے۔ ہر طرف دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ ہر طرف لوگوں کا ہجوم تھا۔ مٹھائی کی دکانوں پر مٹھائی کو خوبصورت انداز میں سجایا ھوا تھا۔ ہم نے مختلف جھولوں پر جھولے لئے اور بہت لطف آیا۔ ہم نے وہاں سے مٹھائی لی اور بہت سارے کھلونے لئے اور اپنے لیے چوڑیاں بھی خریدیں۔ ہر طرف شور تھا۔ بچے، بوڑھے اور جوان سب خوش تھے اور جھولوں پر سوار ہو رہے تھے۔ پھر ہم نے کھانے کےلیے چیزیں خریدیں اور پارک میں بیٹھ کر کھانا کھایا۔ قریب ہی ہماری خالہ کا گھر تھا، ہم وہاں گئے. تھوڑی دیر خالہ زاد بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلے۔اس کے بعد وہ ہمیں چڑیا گھر لے گئے۔وہاں ہم ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوئے۔وہاں بندر درختوں پر کھیل رہے تھے۔ ہم نے ان کی طرف کیلے پھینکے جنہیں وہ چھیل کر کھا گئے۔ اس کے بعد ہم نے بہت بڑا سانپ دیکھا اس کی عمر اسی سال تھی۔ پھر ہم نے مور دیکھا جو اپنے پر پھیلائے خوبصورت لگ رہا تھا۔ پھر ہم نے شیر دیکھا وہ پنجرے میں دھاڑ رہا تھا۔ اس کے بعد ہم  نے طوطے، ہرن اور مرغیاں وغیرہ دیکھیں۔ پھر ہم نے موت کا کنواں دیکھا۔ وہاں بارہ سال کا لڑکا موٹرسائیکل چلا رہاتھا۔ ہم اس میلے میں بہت لطف اندوز ہوئے۔ اب ہم تھک چکے تھے تو پھر خالہ کے گھر گئے۔ وہاں آرام کیا اور شام کا کھانا کھایا اور رات گیے گھر پہنچے ۔اس میلے کی یاد آج بھی میرے دل میں تازہ ہے۔شئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *