مطالعہ کتب
جب سے انسان نے بولنا شروع کیا ہے تب سے با معنی الفاظ انسانی سوچ کا حصہ رہے ہیں۔اور پھر انسان نے ان الفاظ کا سہارا لے کر ایک دوسرے کے احساسات و جزبات محسوس کرنے لگے۔ پھر انہی احساسات و جزبات کو صفحات پر لکھنے کا شعور پیدا کیا۔ اور اسی شعوری کوشش کے نتیجے میں کتب تخلیق ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ کتابیں انسانی دوستوں میں خوبصورت اصافہ ہیں۔ جب کھبی انسان تنھائی کے ان دیکھے خوف میں مبتلا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں یہ کتابیں انسانی دل کی بے چینی کو فرحت بخشتی ہیں۔ اور ان کے ساتھ ساتھ بے پناہ معلومات کا خزانہ بھی ہیں۔ اگر پاکستان میں دیکھا جائے کتب بینی کے فروغ کم شرح خواندگی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کتابوں کے مطالعہ سے انسانی سوچ میں جاننے کی شعوری لہر موجزن ہوتی ہے