غزل16 دسمبر 1971
سقوط ڈھاکہ کی یاد میں
درد ہوتا نہ کہیں درد کے سائے ہوتے
اے خدا ہم تیری دنیا میں نہ آئے ہوتے
راحت و امن کے پہلو تو سجائے ہوتے
چند کانٹوں سے نشیمن جوبنائے ہوتے
میرے ہونٹوں پہ نہ آتا کبھی حرف شکوہ
کاش غم خوار جو اپنے تھے پرائے ہوتے
یہ اگر جانتےہر گام پہ گل چیں ہو گے
باغباں ہم تیری باتوں میں نہ آئے ہوتے
ہر روش خاربکف ہو گی کسے تھا معلوم
گیت اے کاش بہاروں کے نہ گائے ہوتے
ہرکڑی دھوپ مجھے ہوتی گھنیری چھاوں
تیرے گیسو میرے شانو پہ جو آئے ہوتے
اے ہماخالق عالم سے بہنگام الست
| ~ |
تم نے جو عہد کیئے تھے وہ نبھائے ہوتے
کاٹتے کیوں بھلا ہم فصل اندھیروں کی ہما
اپنے انگن میں اگر چاند اگائے ہوتے