عورت اور دوکاندار
ایک عورت ایک دوکان پر گئی اور دوکاندار سے پوچھا انڈا کتنے کا دے رہے ہو “دس روپے کا ایک انڈا” بوڑھے نے جواب دیا ۔ عورت نے کہا میں چھ انڈوں کے پچاس روپے دوں گی یا میں چلتی ہوں۔
دوکاندار نے کہا میڈم لے جائیں جیسا آپ چاہتی ہیں ۔ شاید یہی بہتر ہو کیونکہ میں بھی صبح سے کوئی انڈا بیچ نہیں پایا ہوں۔ عورت نے انڈے لیے اور فتح کے احساس کے ساتھ چل دی۔ وہ اپنی بڑی سی کار میں بیٹھی اور اپنی دوست کے ساتھ شہر کے بہترین ہوٹل میں جا کر انہوں نے کھانے آرڈر کیے ۔کچھ کھایا اور بہت سا یونہی چھوڑ دیا۔ جب وہ بل ادا کرنے گئیں تو کیشیئر نے چودہ سو روپے کا بل بتایا میڈم نے پندرہ سو روپے ادا کیے ۔ سو روپے
بطور ٹپ کہ کر نکل گئیں ۔
یہ واقعہ ہوٹل والے کے لیے عام بات ہو گی مگر انڈے والے کیلئے یقیناً تکلیف دہ تھا کیونکہ ہم ہمیشہ اپنی طاقت کا مظاہرہ ان پر ظاہر کرتے ہیں جو محتاج اور کمزور ہوتے ہیں اور فراخدلی ان کے ساتھ کرتے ہیں جن کو ہماری فراخدلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ذرا سوچئے