ایک مظلوم لڑکی کی دادرسی

0
Untitled

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو سندھ میں رہتی تھی ۔ اس کا نام تاجو ھے ۔ اسکا تعلق سندھ کے ایسے علاقے سے ہے جہاں تعلیم کو لعنت سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے تعلیم حاصل کرنے کے شوق کو اسکا غریب باپ پورا کرنا چاہتا تھا لیکن اپنے علاقے کے لوگوں کے رویے اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ اپنی تاجو کو سکول بھیج سکے ۔ وہ تاجو کو نئ نئ کاپیاں اور کتابیں خرید کر دیا کرتا تا کہ اسکی بیٹی اپنے شوق کو پورا کر سکے۔

وہ جس علاقے میں رہتے تھے وہاں کا جاگیردار بہت ظالم تھا اسکا نام سلیمان شاہ تھا ۔ علاقے کے تمام لوگ اس سے بہت تنگ تھے ۔ تاجو کے ابا نے سلیمان شاہ سے کچھ رقم ادھار لے رکھی تھی جس کا اس نے اچانک سے مطالبہ کر دیا ۔ تاجو کا ابو بیچارہ غریب آدمی اتنی بڑی رقم کہاں سے لاتا ۔ اس نے کچھ دن کی مہلت مانگی جو اس جاگیردار نے آسانی سے دے دی ۔ اگر وقت پر تاجو کا باپ رقم ادا نہ کرتا تو اسے تاجو کو اس جاگیردار کے حوالے کرنا پڑتا تاکہ وہ اس کی خدمت کرکے اس ادھار سے جان چھڑواتی جو کہ اسکے باپ کو گوارا نہ تھا ۔

ابھی تاجو کا باپ اسی کشمکش میں تھا کہ رقم کا بندوبست کیسے کرے انھی دنوں میں ان کے گاؤں میں شہر سے ایک خاتون آئی جو لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لئے آواز بلند کر رہی تھی ۔ اس کو جب تاجو کے تعلیم حاصل کرنے کے شوق کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے تاجو کے والدین سے اس بارے میں بات کی ۔ کافی دیر سوچنے کے بعد بالآخر تاجو کے والدین اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ خاتون تاجو کو شہر لے جا کر تعلیم حاصل کروائے گی ۔ اس خاتون کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا اور وہ ایک این۔جی۔او سے بھی منسلک تھی ۔ اس نے تاجو کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھائی اور ہر طرح سے اسکی مدد کی ۔

ادھر تاجو کے والدین کو ظالم جاگیردار نے بہت تنگ کیا کہ انکا وہاں رہنا مشکل ہو گیا ۔ اس لئے تاجو کے والدین اپنے خاندان کو لے کر کسی اور گاؤں میں منتقل ہو گئے جہاں وہ کچھ دن سکون سے گزار سکیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تاجو تعلیم کے ہر میدان میں آگے بڑھتی گئی ۔ اور بالآخر ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی اس نے اپنا تبادلہ اپنے گاؤں میں کروایا جہاں اب کافی حد تک بہتری آگئی تھی اور لوگوں میں تعلیم کا شعور بھی پیدا ہو گیا تھا ۔ کچھ دن بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ظالم جاگیردار کی طبیعت اچانک سے خراب ہو گئی اور اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا جو اسے شہر کے کسی اچھے ہسپتال لے جاتا ۔ جبھی تاجو کے وہاں بروقت موجود ہونے کی وجہ سے اسکا بروقت علاج کیا گیا جس سے وہ مرتے مرتے بچ گیا ۔ ہوش میں آنے پر جب اس کو حقیقت کا علم ہوا تو وہ تاجو کا بہت شکر گزار ہوا اور اس سلوک پر شرمندہ بھی جو اس نے ان لوگوں کے ساتھ کیا ۔ اور صحتیاب ہونے کے بعد اس نےگاؤں والوں کے ساتھ اپنے برے سلوک کی معافی مانگی اور تاجو کا خاص شکریہ ادا کیا ۔

اخلاقی سبق: 

خدا کی نگری میں دیر ہے اندھیر نہیں ۔

کفر کی حکومت ہو سکتی ہے مگر ظالم کی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *