اتفاق میں برکت
پرانے وقتوں میں قافلے پیدل سفر کرتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ھےکہ کسی گاؤں میں ایک غریب رہتا تھا۔اس کے پاس اعلی قسم کے بیلوں کی جوڑی تھی۔اس کا ذریعہ معاش بیل تھے۔وہ ان سے مختلف کام لیا کرتا تھا۔ان کو ہل میں جوتتا،ان سے کنویں سےپانی نکلواتااور بوجھ بھی اٹھواتا ۔ لیکن ان کو نہ وقت پہ پانی پلاتا نہ ہی وقت پہ چارہ ڈالتا۔ بیل روز بروز خوراک کی کمی سے کمزور ھوتے جا رہے تھے۔لیکن کسان اپنے حال میں پست تھا۔اسے ان کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ آخر ایک رات دونوں بیلوں نے سوچا کہ یہاں پڑے پڑے تو بھوک سے کانٹا ھو جائیں گے۔کیوں نہ بھاگ کر جنگل میں پناہ لے لیں۔چنانچہ انہوں نے دانتوں سے اپنے رسے کاٹ کر چپ چاپ جنگل کی طرف چل پرے۔ جنگل میں پہنچے تو ہر طرف ہریالی اور خوشگوار فضا پا کر خوشی سے پھولے نہ سمائے۔یہ ان کی زندگی کا بہترین دن تھا۔اب وہ سارا دن گھاس میں چرتے، ندی سے پانی پیتے اور اپنی قسمت پر ناز کرتے۔ایک دو مہینوں میں ہی ھٹے کٹے ھو گئے۔وہ اپنی مستی میں جھومتے اور جنگل میں ادھر ادھر پھرتے۔ ایک دن ایسا ھوا کہ ایک بھوکا شیر شکار کی تلاش میں جنگل کی اس حصے کی طرف نکل آیا جدھر بیل رہتے تھے۔صحتمند اور موٹے تازے بیل دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اس نے اپنی طاقت کے نشے میں آ کر بیل پر چھلانگ لگا دی۔ بیل بھی اسکی طرف سے لا پرواہ نہ تھے۔ انہوں نے اسے اپنے سینگوں پر لے لیا۔اور اتھا کر دور پھینک دیا۔ شیر پھر دوسرے بیل پر حملہ آور ھوا تو اس نے بھی اپنے سینگوں کی مدد سے پچھاڑ دیا۔اب تو شیر کو دونوں بیل باری باری اپنے سینگوں پر اٹھا اٹھا کر دور پھینک رہے تھے۔آخر زخمی شیر ڈر کے مارے بھاگا اور دوبارہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اخلاقی سبق: اتفاق میں برکت ھے