“میز کی آپ بیتی”
میں ایک میز ہوں ۔آج میں آپ کو اپنی آپ بیتی سناتا ہوں ۔میں ہمیشہ سے میز نہیں تھا ۔پہلے میں ایک درخت تھا۔ لوگ تو مجھے بے جان سمجھتے تھےلیکن میں بے جان نہیں ہوں بلکہ میں ایک جاندار ہوںمیں سانس بھی لیتا ہوں اور انسانوں کو بھی سانس لینے میں مدد دیتا ہوں ۔میں گندی ہوا کو جزب کر کے ساف ہو ا کو مہیا کرتا ہوں ۔ایک دن ایک لکر ہارا آیا اوراس نے مجھے کاٹ لیا اور پھر مجھے ایک بڑھئ کے پاس لے گیا۔پھر مجھے مشینری سے گزارا گیا ۔اور پھر مجھے میز کے ڈھانچے میں ڈالا گیا ۔اور جب میں تیا ر ہو گیا تو مجھ پر برائون رنگ کیا گیا ۔پھر لکڑ ہارا واپس اپنے گھر لے گیا ۔آج میں میز کی شکل میں آپ کے سامنے ہوں ۔مجھ سے لوگ مختلف طرح کی مدد لیتے ہیں۔مین طالبعلموں کی پڑھائی میں بھی ان کی مدد کرتا ہوں ۔یعنی وہ مجھ پر اپنی کتابیں رکھ کر پڑھتے ہیں اور کاپی رکھ کر لکھتے ہیں۔لوگ مجھے کھانے کی چیزیں رکھنے کیلیئے بھی استعمال کر تے ہیں میں لوگوں کو مختلف قسم کی امداد دیتا لیکن ایک دن میں ٹوٹ گیا مجھے لوگ اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ دیتےمجھ سے کوئی کام نہ لیا جاتا پھار ایک دن مجھے اٹھا کر سٹور میں پھینک دیا گیا اور اب میں سٹور میں بے ساختہ حال میں پڑا ہوں ۔