Untitled

ہر چیز کو فنا ہے کس چیز کو بقا ہے

                                                 اس موت کا مزا تو ہر ایک نے چکھا ہے             

کیسے بھلا دی تونے دنیا کی یہ حقیقت

آیا ہے جو جہاں میں جانا ہے اس   کی قسمت

ایسی اٹل حقیقت کوئی کیسے بھولتا ہے

اس چیز کا مزا تو ہر ایک نے چکھا ہے

مانا کہ اس جہاں کا لطف و مزا بڑا ہے

لیکن یہاں ہمیشہ کوئی نہیں رہا ہے

آیا تھاجب وہاں سے وعدہ وہاں کیا تھا

خالق توجب بلانا واپس یہاں ہی لانا

آسائشیں یہاں کی تجھے اس طرح سے بھائیں

باتیں جو خلد کی تھیں تجھے یاد تک نہ آئیں

چھوٹا ہو یا بڑا ہو شاہ ہو کہ یا گدا ہو

پیر و جواں ہو آقا چاہے غلام زادہ

زاہد ہو متقی ہو رند ہو کہ یا ہو ساقی

موجوں کی یہ روانی دشت و جبل طولانی

وسعت یہ بحرو بر کی نکہت کسی شجر کی

طائر کا چہچہانا ماہی کا یوں تڑپنا

کس چیز کو بقا ہے ہر چیز کو فنا ہے

خورشید کی تمازت چندا کی چاندنی بھی

بدرو قمر کا بننا تاروں کا جھلملانا

گوہر جو سیپ میں ہے موتی تو بن رہاہے

کس کو خبر ہے اس کی تقدیر ہی میں کیا ہے

تکمیل بھی کیا ہو گی تسکین بھی کیا ہو گی

تکمیل گر جو ہو گی تزئین بھی کیا ہو گی

سکوت بحر سے پوچھا جبل و قمر سے پوچھا

کیسی ہے زندگانی حیات جاودانی

بولے وہ یک زبانی سب کچھ یہاں ہے فانی

خوف گہن کہیں تو کہیں خوف زندگانی

کلیاں جو پھول بن کے غنچوں میں ڈھل رہی ہیں

ان کی بھی خواہشیں ہیں دل میں مچل رہی ہیں

لیکن کوئی بتا دے ان کو خدارا جاکے

کچھ دیر کی ہیں مہماں کل تک نہ ہوں گی باقی

فرعون ہو یا شداد ،نمرود ہو یا قاروں

دارا ہو یا سکندر ، مرحب یا کہ انتر

بگل قضا بجا جب عقدہ نیا کھلا تب

نہ زمیں ملی دفن کو نہ ہی پارچہ کفن کو

نازاں نہ ہو مسافر کچھ بھی نہیں رہے گا

جعفر فنا ہے دنیا تو بھی نہیں رہےگا

ہر چیز کو فنا ہے کس چیز کو بقا ہے

اس موت کا مزا تو ہر ایک نے چکھا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *