“عجائب گھر”
عجائب گھر کا ایک نام اس کیلیئے بہت موزوں ہے کیونکہ اسکا نام اسکی طرز کی عکاسی کرتا ہو نظر آتا ہےکہ نہ جانے یہ مکا م کیسی کیسی عجیب و غریب چیزوں کا گھر ہو۔ عجائب گھر کا نام ہمارے لیے باعث تجسس ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں لاہور میں سکونت اختیار کیے ہوئےتھی ۔ایک دن میری سہیلیوں نے عجائب گھر دیکھنے کی ٹھانی ۔ہماری ایک استانی بھی ہمارے ساتھ تھیں ۔جمعہ کا دن تھا ہم عجائب گھر دیکھنے کیلیے روانہ ہوئےعجائب گھر کے ارد گرد باغیچہ تھا جس میں خوبصورت پھول کھلے ہوئے تھے ۔عجائب گھر کی عمارت بہت وسیع اور خوبصورت تھی ۔ہم نے ٹکٹیں لیں اور عجائب گھر میں داخل ہوگئے۔عجائب گھر مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ اس کے پہلے حصے میں مٹی کے برتن ،کھلونے اور مورتیاں رکھی ہوئی تھیں۔یہ چیزیں اس زمانے کی تہزیب و تمدن کا پتہ دیتی ہیں یہ ایشیا دھات کے زمانے سے قبل کی ہیں ۔جبکہ عجائب گھر کی دوسرے حصے میں لکڑی چیزیں تھیں جن میں مہا تما بدھ کا مجسمہ قابل ذکر ہے وہاں کی اشیا اپنے دور کی عکاسی کرتی ہیں ۔تما م ایشیا پر ان کے مختصر کوائف درج ہوئے ہیں ۔ اور احتیاط کے پیش نظر ان اشیا کو چھونے کی مما نعت ہوتی ہے کہ ہاتھ لگانے سے ان نوادراتکو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے دوسرے ان پر لگے ہوئے کیمیکلز سے ہمیں بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔مسلمانوں کے دورحکومت میں بھی ان نوادرات کابیش بہا خزانہ ہمارے لیے چھوڑ ا ہے ۔ ہم نے یہ سب چیزیں دیکھی ہیں ۔اب شام ہو چکی تھی ہم وہاں سے روانہ ہو گئے۔