شہد کی مکھی گاتی آئی
شہد کی مکھی گاتی آئی
پروں سے بین بجاتی آئی
میں نے کہا اے شہد کی مکھی
مجھ کو بتا اے شہد کی مکھی
یوں اتراتی شور مچاتی
کیوں پھرتی ہے وقت گنواتی
بولی باغ سے آئی ہوں میں
پھولوں کا رس لائی ہوں میں
رس سے شہد بناتی ہوں میں
گھر میں ڈھیر لگاتی ہوں میں
گھر بھی ایک بنایا میں نے
اس کو خوب سمجھایا میں نے
کاہل بن کر میں نہیں سوتی
وقت کو اپنے میں نہیں کھوتی
کام ہی میں آرام ہے مجھ کو
کام ہی سے دن بھر کام ہے مجھ کو