شہد کی مکھی گاتی آئی

0
Untitled

شہد کی مکھی گاتی آئی

پروں سے بین بجاتی آئی

میں نے کہا اے شہد کی مکھی

مجھ کو بتا اے شہد کی مکھی

یوں اتراتی شور مچاتی

کیوں پھرتی ہے وقت گنواتی

بولی باغ سے آئی ہوں میں

پھولوں کا رس لائی ہوں میں

رس سے شہد بناتی ہوں میں

گھر میں ڈھیر لگاتی ہوں میں

گھر بھی ایک بنایا میں نے

اس کو خوب سمجھایا میں نے

کاہل بن کر میں نہیں سوتی

وقت کو اپنے میں نہیں کھوتی

کام ہی میں آرام ہے مجھ کو

کام ہی سے دن بھر کام ہے مجھ کو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *