Untitled

میں ایک پرس ہوں۔ میں چمڑے کا بنا ہوا ہوں۔ میرا رنگ سرخ اور سفید ہے۔ فیکڑی میں میری زندگی کا آغاز ہوا۔ کئی مزدوروں نے مل کر مجھے تیار کیا۔ پھر میری خوبصورتی میں اضافہ کیاگیا۔ مجھ پر لوہے کے بٹن لگائے گئے ہیں۔ اور لوہے کی زنجیر لگا کر خوبصورتی میں اضافہ کیا۔ جب میں مکمل تیار ہو گیا۔ تو مجھے پلاسٹک شیٹ میں پیک کر دیا گیا۔ اور وہاں میرا دم گھٹنے لگا اور میں نے خدا سے دعا کی مجھے یہاں سے آزادی ملے۔ کئی دنوں کے بعد ایک آرڈر پر مجھے منگوایا گیا۔ میرے اندر ایک خوشی کی لہر دوڑ گی۔ ایک دوکاندار نے مجھے خریدا جو بازار کے وسط میں تھی۔ اس نے مجھے دوکاندار کے باہر لٹکا لیا۔ وہاں پر میں لوگوں کو آتے جاتے دیکھتا اور خوش ہوتا۔ مجھے اپنی زندگی کا احساس ہونے لگا ۔ کچھ لڑکیاں مجھے بازار میں دیکھ کر چلی جاتی۔ کچھ تعریف کرتی اور کچھ کہتی اچھا نہیں ہے اور کچھ کہتی اچھا ہے۔ اور کچھ کہتی چیز اچھی نہیں اور کچھ کہتی کلراچھا نہیں۔ مجھے بہت غصہ آتا جس پر میں قابو نہ پا سکتا۔ میں آہ بھر کر رہ جاتا۔ مجھے کوئی نہ خریدتا۔ ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک لڑکی نے مجھے خرید لیا۔ میں خوش ہو گیا۔ وہ مجھے گھر لی گی۔ اس کا گھر بہت خوبصورت تھا جتنی وہ خود تھی۔ اس نے مجھے پلاسٹک کی شیٹ سے باہر نکالا۔ اور میرے اندر ضرورت کی چیزیں رکھیں۔ اکثر میرے اندر مو بائیل ہوتا ہے اور میں اس کی حفاظت کرتا ہوں۔ اور میں اس کے پیارے پیارے ہاتھوں میں رہتا ہوں۔ وہ مجھے سکول میں بھی اپنے ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ ایک دن مجھے پھینک دیا جائے گا۔ اور وہ میری ذندگی کا آخری دن ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *