گلاب کے پھول کی آب بیتی

0
Untitled

       میں  ایک گلاب کا پھول ہوں ۔ میں گورنمنٹ ہائی  چندرائن سکول کی سب سے پرکشش   اور بڑی کیاری میں لگا ہوا تھا۔ میں سکول کے سب پھولوں سے منفرد اور دلکش تھا۔ جب شبنم کے قطرے مجھ پر گرتے تو سورج کی کرنیں پڑتے ہی موتیوں کی طرح چمکنے لگتے۔ مجھے جو بھی دیکھتا اس کے چہرے پربشاشت کے آثار میسر آتے۔

          ایک دن دہم کلاس کے طالب علم نے مجھے میری شاخ سے توڑا  اور ہاتھ میں لے لیا۔ پہلے تو میں بہت مایوس ہوا۔ لیکن جب دسرے لڑکوں  نے مجھے دیکھ کرمیری تعریف کی تو میں بہت خوش ہوا۔ تھوڑی دیر بعد ہی میں اپنی شاخ سے الگ ہونے کی وجہ سے مرجھا نے لگا۔ جب طالب  علم نے یہ دیکھا کہ میں مرجھا رہاہوں تو اس نے مجھے اتار کراپنی کتاب میں رکھ لیا۔

        کتاب میں پڑے میرا دم گھٹنے لگا اور میں بالکل سوکھ گیا۔ ایک دن دہم کلاس کے استاد صاحب  نے کتاب اٹھائی جب انہوں نے میری بوسیدہ حالت کودیکھا توفوراً تمام طلباء کو ہدایت کی کہ وہ پھولوں کو شاخ سے مت توڑیں یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ استاد صاحب  نے بتایاکہ پھولوں کو شاخ سے نہیں توڑنا چاہیے۔       جس طرح انسان خوراک ، پانی اور ہوا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح ایک پھول بھی اپنی شاخ بغیر نہیں رہ سکتا۔اسکے بعد تمام طلباءنے یہ عہد کیا کہ وہ آئندہ پھولوں کو شاخ سے نہیں توڑیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *