جو تے کی آب بیتی
میں ایک جو تا ہوں۔میں شرو ع سےایسا نہیں تھا۔مجھےکسی جا نو ر کی کھا ل اتار کربنایا گیاہے۔اس کھال کو کارخانے والو ں نےخرید ا۔پھر اس کھا ل کو سکھا کر ا س کے چھو ٹے چھو ٹے ٹکڑ ے کر کے رکھ دیا۔پھر کا ر خا نے کے ایک ما ہر کاریگر نے کھا ل سےمجھے بنایا۔مجھ پر خوبصورت رنگ کیا گیا ا ور ڈیزا ین بنا کر مجھے ا یک خوبصورت جوتابنا دیا گیا پھر دو سرے جوتو ں کے سا تھ مجھے ا یک دو کا ن پر بھیجا گیا ۔جہا ں مجھے دو سر ے جو تو ں کے سا تھ ر کھ دیا گیا ۔پھر ا یک دن ایک بچہ ا پنی ما ں کے سا تھ آ یا ا ور مجھے پسند کر کے خر ید لیا ۔ا ب وہ بچہ ر و ز مجھے صا ف کرتا ہےا ور خیا ل کر تا ہے ۔اب وہ بچہ روز مجھے پہنتا ہے میرا خیال کر تا ہے ،رو ز مجھے صا ف کر تا ہے ا ور گرد سےبچا تا ہے۔جب لو گ ہما را خیا ل نہیں کر تے گندگی سے نہیں بچاتے ۔پتھر و ں کو جو تو ں سے ٹھو کریں ما ر تے ہیں تو مجھے بہت تکلیف ہو تی ہے۔دو ستو!میں بہت کا ر آ مد چیز ہوں۔ میں آ پ کے پا وّ ں کی حفا ظت کر تا ہوں۔میرا پیغا م ہے۔کہ آ پ مجھے صا ف ستھرا رکھیں ا و ر رو زانہ پا لش کیا کریں ۔اس طر ح میں زیا دہ عر صے تک آ پ کے کا م آسکتا ہو ں۔اور آ پ کے سا تھ رہ سکتا ہو ں