Untitled

  کبھی میں کھلی فضاؤں میں سانس لیتا ایک پودا تھا۔چاندنی راتوں کی ٹھنڈیہوائیں  یاد کرکے آج بھی دل خون کے آنسو روتا ہے۔ایک دن ایک پٹھان آیا اس نے میرے وجود  کو اکھاڑ کر رکھ دیا ۔میری لکڑ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ مجھے ایک بڑھائی کی دکان پر پہنچا دیا گیا۔جس نے لوہے کے ازاروں سے میرے جسم  پر وار کیے اور مجھے  ایک کرسی کی شکل دے  دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *