Untitled

  د ُور کہیں تھا ا ک جنگل

روز ہو تا تھا جا نوروں کا دنگل

چرواہا بھی ایک آ کے روز چراتا تھا

اپںی بھیڑ اور !!!!!!!!!!!!!!!!!! بکریاں

سوچ کے نہ جا نے کیا ؟ایک دن

زور زور سے چلا یا وہ کھا گیا بھڑیا میری بکریاں

سُن کےاس کی آہ فریاد

ڈ نڈ ے سوٹےلےکےبھاگےلوگ

دیکھا اُ س نے جب تو ہسنے لگا یہ کہہ کر

اوئے بھولے بھالےلوگ

میں نے تو یو نہی کیا واویلا

اور تم اس کو سچ سمجھ گئے ہو بھولے لوگ

کچھ دن ابھی بیتے تھےکہ ہوا پھر یہی شور

سُن کر پھر سے ڈ نڈ ےسوٹےلےکےبھاگےلوگ

اب کی بار بھی ہوا اُن سے کہلواڑ

 ا ُ سے بُرا بھلا کہتے گھروں کو لو ٹے لوگ

ہوا خُداکا کرنا ایک دن سچ میں وہاں

آیا دوڑا دوڑا اک خون خوار باگ

مدد کووہ زور زور سے چلا یا

مگر ان کو اب سمجھے جھوٹ موٹ لوگ

پہلے بھیڑیا  نے چیرا پھا ڑا چرواہے کو

پھر کھا گیا ا س کی دو چار بھیڑ کو

سچ ہےبچو!جھوٹ نہیں با لکال اچھا

بچا لو تم بھی خود کو یہی ہے تمھارے لیے اچھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *