غزل
جب کانچ اٹھانے پر جائیں
تم ہاتھ ہمارا لے جانا
جب سمجھو کہ کوئی ساتھ نہیں
تم ساتھ ہمارا لے جانا
جب دیکھو کہ تم تنہا ہو
اور راستے ہیں دشوار بہت
تب ہم کو اپنا کہ دینا
بے باک سہارا لے جانا
جو بازی تم جیتو گی
جو منزل تم پاؤ گی
ہم ساتھ تمہارے ہوں نہ ہوں
تم احساس ہمارا لے جانا
اگر یاد ہماری آجائے
تم پاس ہمارے آجانا
بس ایک مسکان ہمیں دے دینا
اور جان ہماری لے جانا