بےایمانی کی سزا اور ایمانداری کی جزا

0
Untitled

ایک گاؤں میں ایک نمبرردار رہتا تھا  یہ اس دور کی بات ہے جب چینی  راشن ڈپوؤں پر مخصوص مقدار میں دی جاتی تھی اس نمبردار کو بھی ایک ڈپو پر لوگوں کو چینی تقسیم کرنےکی ڈیوٹی سونپی گئی تھی۔ اس گاؤں میں ہر شخص کو صرف 100 گرام چینی روزانہ دی جاتی تھی وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ ہر فرد کو 250 گرام چینی دینے کا حکم دے دیا گیا

چنانچہ اب 100 گرام کی بجائے 250 گرام چینی فی نفر دی جانے لگی۔ اس کام میں  نمبردار کے ساتھ ایک ملازم کی بھی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ وہ   وزن کرنے میں نمبردار کی مدد کیا کرے گا۔ تو اس طرح وہ دونوں چینی کا وزن کر کے لوگوں کو دیا کرتے تھے۔ 

        ایک دن نمبردار کے دل میں  خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا کام کیا جائے کہ وزن کم کر کے دیا جائے اس طرح وہ کافی ساری چینی بچا لیں گے جب اس نے اس بات کا ذکر ملازم سے کیا جو اس کی وزن کرنے میں مدد کیا کرتا تھا تو اس نے صاف انگار کردیا کہ جناب میں یہ بےایمانی نہیں کر سکتا۔ ملاز م غریب تو تھا مگر خوف خدا رکھنے والا انسان تھا  وہ غریب عوام کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا تھا ۔ جب نمبر دار نے دیکھا کہ ملازم اس کا ساتھ نہیں دنیا چاہتا تو اس نے اسے دھمکی دی کہ اگر تو نے کسی کو بتایا تو میں تمھیں نوکری سے بھی نکلوا دوں گا اور حکام بالا کو بتاؤں گا کہ اس کام میں تم بھی میرے ساتھ شامل ہو ۔

              غریب  ملازم ڈر گیا اور اس نے خاموشی اختیار کر لی اور دل میں کڑھنے لگا کہ غریبوں کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے مگر میں کچھ کر نہیں سکتا۔ اب نمبردار جب وزن کرتا تو ترازوں کو اس طرح پکڑتا کہ چینی 250 گرام کے بجائے 200 گرام ہوتی جبکہ 50 گرام چینی نبردار بچا لیتا ۔ اس طرح نمبردار تھوڑے ہی عرصہ میں کافی امیر ہو گیا تھا۔ اور غریبوں کا حق کھاتے دیکھ کر بے چارہ ملازم اسے کچھ کہ بھی نہیں سکتا تھا۔

                                  ایک    دن ایسا ہو کہ نمبردار جس انگلی سے ترازوں میں ڈنڈی مارتا تھا اور وزن گھٹا لیتا تھا  تولنے کے دوران وہی انگلی زخمی ہو گئی اور اس نے ملازم سے کہا کہ تم وزن کرو میری انگلی زخمی ہو گئی ہے ۔ اب وہ پٹی باندھ کر بیٹھ گیا اور ملازم چینی کا وزن کرنے لگا۔ اب ملازم پورا وزن کرتا تھا اور ڈنڈی بالکل نہیں مارتا تھا ۔ نمبردار بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔ اس کی انگلی دن نہ دن خراب سے خراب تر ہوتی گئی اور ایک دن اسے اپنی انگلی کٹوانی پڑی  ۔ انگلی کا  زخم اب بھی ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا حتیٰ کہ اسے  ایک دن مکمل ہاتھ ہی کٹوانا پڑ گیا۔

     نمبردار ہاتھ کٹوانے کے بعد دکھ اور غم کے وجہ سے بیمار ہو گیا اور یہ بیماری اتنی بڑھی کہ ایک دن موت کا باعث بن گئی نمبردار کے مرنے کے بعد وہ ڈپو اور اس علاقے کی نمبرداری اسے ملازم کے حوالے کر دی گئی کیونکہ وہ اس علاقے اور اس کام کو اچھی طرح جانتا تھا اور اس علاقے کے لوگ بھی اسے پسند کرتے تھے  ۔

  اس طرح نمبردار کو اس کی بے ایمانی کی سزا مل گئی اور اس کے ایک چھوٹے سے ملازم کو اس  کی نیکی کی جزا مل گئی ۔

سچ ہے اللہ تعالی کسی کی نیکی ضائع نہیں کرتا ۔ تو بچو! آج سے ہم بھی وعدہ کریں کہ کبھی بے ایمانی نہیں کریں گے اور کسی کا حق نہیں کھائیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *