ڈر یا خوف
ہر انسان کو کسی نہ کسی شے سے ڈر یا خوف محسوس ھوتا ہے۔لیکن ھمیں اس ڈر کو اپنے اوپر حاوی نھیں ہونے دینا چاھیے۔ایک دفعہ دو سائنسدانوں نے ڈر یا خوف جیسے احساسات کے انسان پر
اثرات کا مشاھدہ کیا۔انھوں نے ایک قیدی جسے پھانسی کی سزا سنائ گئ تھی جیل سے بلوایا۔اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اسے ایک تاریک کمرے میں بٹھا دیا گیا۔انھوں نے قیدی سے کہا کہ ابھی تمھیں ایک نہایت ذھریلا سانپ ڈسنے والا ھے۔قیدی خوفزدہ ہو گیا۔کچھ دیر بعد اسے بتایا گیا کہ وہ سانپ تمھارے قریب آچکا ہے۔قیدی خوف سے چیخنے لگا۔اب اسے بتایا گیا کہ سانپ تمھیں ڈسنے ہی
والا ہے ۔قیدی خوف سے سفید پڑ چکا تھا۔اسکے ساتھ ہی اسے ایک سوئ کی نوک چبھودی گئ۔ قیدی
سمجھا اسے سانپ ڈس چکا ھے۔یہ احساس ہوتے ہی قیدی مر گیا۔بعد میں قیدی کا پوسٹ مارٹم کرنے پر سائنسدانوں کو اسکے جسم میں سانپ کا زھر ملا۔جو دراصل کسی سانپ کے کاٹنے سے اسکے جسم میں نھیں آیا تھا بلکہ اسکے اپنے ڈر نے اسکے اندر پیدا کر دیا اور وہ اپنی جان سے ھاتھ دھو بیٹھا۔ تو معلوم یہ ہوا کہ ھمیں کسی بھی شے کا خوف اپنے اوپر اتنا سوار نھیں کرنا چاہیے ورنہ نتیجہ ایسا ہی ھوگا