سوچنا
موت کے پردے میں حیات سوچنا
خوش خوش زندگی گزارتے اتنا سوچنا
خواب ہے کوئی افسانہ یا پھر حقیقت
کچھ تو ہے یہ دنیا ذرا دیر کو سوچنا
کیوں تنہا کر جاتا ہے سایہ میرا
دھوپ میں چلتے چلتے رک کر سوچنا
سورج کے چھپتے ہی کیوں آجاتے ہیں تارے
چاند کی کرنوں میں شب کو سوچنا
پیچھے دیکھنے والے کیا واقعی پتھر کے ہو جاتے ہیں؟؟
سچ ہے یا پھر جھوٹ کہاوت، سوچنا
دکھوں میں زندگی گزار کر حیران نہ ہونا
مٹ نہیں سکتاجو مقدر میں ہے سوچنا
مرکے ختم ہو جائے گا یہ سفر بھی
کاش زندگی میں ہی مٹ جائے اک لفظ “سوچنا”