qcRRDpjt_400x400

موت کے پردے میں حیات سوچنا
خوش خوش زندگی گزارتے اتنا سوچنا
خواب ہے کوئی افسانہ یا پھر حقیقت
کچھ تو ہے یہ دنیا ذرا دیر کو سوچنا
کیوں تنہا کر جاتا ہے سایہ میرا
دھوپ میں چلتے چلتے رک کر سوچنا
سورج کے چھپتے ہی کیوں آجاتے ہیں تارے
چاند کی کرنوں میں شب کو سوچنا
پیچھے دیکھنے والے کیا واقعی پتھر کے ہو جاتے ہیں؟؟
سچ ہے یا پھر جھوٹ کہاوت، سوچنا
دکھوں میں زندگی گزار کر حیران نہ ہونا
مٹ نہیں سکتاجو مقدر میں ہے سوچنا
مرکے ختم ہو جائے گا یہ سفر بھی
کاش زندگی میں ہی مٹ جائے اک لفظ “سوچنا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *