راہِ علم
بہت صدیوں سے تھی میرے دل میں اِک آرزو
خود کو بیاں کرنے کی
دیکھا ایک جگہ پہ چراغ تھے روشن اور عجیب سی جھلک تھی۔
چل کے گئی انجان قدموں کے ساتھ د یکھا تو
دیے تھے ہاتھوں میں اور روشنی سے منور تھے چہرے
معلوم ہوا کہ یہ راہِ علم تھی
تو مجھے زندگی جینے کی ایک راہ مل گئی