مامون الرشید اور بڑھیا

0
images (1)

یہ واقعہ مشہور عباسی خلیفہ مامون الرشید کا ہے۔
عباسی خلیفہ مامون الرشید نے اتوار کا دن اپنے اہل کاروں کے خلاف شکایات سننے کے لیے مقرر کر رکھا تھا ۔ ایک اتوار مامون عدالت لگائے بیٹھا تھا اور اس کا بیٹا عباس اسکے پیچھے کرسی کے ساتھ کھڑا تھا۔
دربار ختم ہونے کا وقت آیا اور بادشاہ کرسی سے اٹھے ہی تھے کہ کیا دیکھتے ہیں ایک عورت دوڑتی ہوئی آ رہی ہے بادشاہ نے وزیروں مشیروں کو بھی بیٹھنے کا حکم دیا اور خود بھی اس عورت کے انتظار میں بیٹھ گئے عورت آئی تو بادشاہ وقت نے اس کے حالات کا اندازہ لگایا کہ ایک تو یہ عورت بہت دور کا سفر کر کے آئی ہے کیونکہ اسکی بھنووں پر گرد کے آثار تھے دوسرے یہ کہ اسے پیاس لگی ہے۔ کیونکہ اس کے ہونٹ خشک تھے ۔
تیسرے وہ پختہ عمر کی نہایت سادہ دیہاتی عورت ہے ۔ بادشاہ نے اسے پانی پلانے کا حکم دیا جب وہ ہوش میں آئی تو بادشاہ سلامت نے بوڑھی عورت سے پوچھا کیوں اماں؟ آپکو میرے کسی حکومتی عہدیدار سے شکایت ہے اگر ہے تو بتائیں ۔ بوڑھی عورت نے بادشاہ کے پیچھے کھڑے اسکے بیٹے عباس کی طرف اشارہ کر کے کہا مامون کیا یہ تیرا بیٹا ہے؟ مامون نے کہا جی اماں یہ میرا بیٹا ہے بوڑھی عورت نے کہا کہ پھر تو تجھے ہم پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ تو ایک ظالم بادشاہ ہے بوڑھی عورت کا لہجہ کچھ اسطرح سخت تھا کہ سب وزیر مشیر سٹپٹا گئے بادشاہ کے پہلو میں کھڑے حاجب احمد بن علی نے عورت سے کہا مائی ہوش کے ناخن لے تو کس سے مخاطب ہے تیرے سامنے امیر المومنین بیٹھے ہیں اور تو سلطان وقت سے گفتگو کر رہی ہے عورت حاجب کی طرف متوجہ نہ ہوئی البتہ مامون سے کہا مجھے تیرے بیٹے عباس سے شکایت ہے ۔
اس نے میری زمین اور جائیداد پر قبضہ کر لیا ہے مامون نے حاجب کو حکم دیا کہ عباس کو پکڑ کر بڑھیا کے بائیں طرف بطور ملزم کھڑا کریں کیونکہ اب وہ شہزادہ نہیں ہے بلکہ ایک ملزم ہے چنانچہ حاجب نے عباس کو پکڑ کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا مامون نے دونوں کا مقدمہ غور سے سنا جس میں عباس پر الزام ثابت ہو گیا۔
بادشاہ نے عباس کو قید کی سزا سنائی اور بوڑھی عورت کو اسکی جائیداد واپس کرنے کا حکم دیا اور عمر بھر کیلئے اسکی زمینوں کا محصول معاف کر دیا اور تاحیات اماں کا وظیفہ مقرر کر دیا پولیس والے عباس کو جیل لے جانے لگے تو بوڑھیا نے سلطان سے درخواست کی کہ بادشاہ سلامت میری ایک اور استدعا منظور فرمائی جائے بادشاہ نے پوچھا وہ کیا؟ بوڑھیا نے کہا عباس کی سزا معاف کر دیں ۔ عادل بادشاہ اللہ تمہیں سلامت رکھے ۔
بادشاہ نے کہا یہ ملزم ہے اسے سزا ملنی چاہیے بوڑھیا نے کہا آپ نے انصاف دے کر میرے دل کو ٹھنڈک پہنچا ئی ہےاب میں اسے معاف کرتی ہوں اور اس وقت تک یہاں سے نہیں ہٹوں گی جب تک اسے میرے سامنے رہا نہ کر دیں گے بادشاہ نے بوڑھیا کے کہنے پر عباس کو معاف کر دیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *