کرونا وائرس اور اس کے اثرات
کرونا لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے تاج چونکہ اس وائرس کی شکل تاج جیسی ہوتی ہے اس لیے اسے کرونا وائرس کہتے ہیں یہ سانس کی ایسی بیماری ہے جو پھیپھڑوں کو بری طرح سے متاثر کرتی ہے اس سے متاثرہ بندے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے اس اچانک آنے والی بیماری سے دُنیا بھر میں خوف و ہراس کی فضا چھا گیی ہے… یہ ایک وبائی مرض ہے جو ایک سے دوسرے کو لگتا ہے
علامات
نزلہ، زکام، کھانسی، نمونیہ اور سانس لینے میں دشواری پیش آنا لیکن یہ علامات تمام مریضوں میں ظاہر نہیں ہوتیں۔
کرونا وائرس کے اثرات
امریکہ جیسے ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کہ اہلیہ بھی اس کے چنگل سے نہ بچ سکے اس وبا کے مثبت اور منفی دونوں اثرات دُنیا پر مرتب ہوۓ ہیں۔
مثبت اثرات
اس سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے جس سے جنگلی اور سمندری حیات تیزی سے بڑھنے لگی۔
ماحول کو آلودہ کرنے والی گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی ہوئی جس کی وجہ سے اوزون کی متاثرہ تہہ زمین کی طرف بڑھنے لگی۔
درختوں کو بھی کاربن ڈائی آکسا ئیڈ کافی مقدار میں فلٹر کرنا پڑا۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ۔
درآمد رک جانے کی وجہ سے لوگوں نے ملکی اشیاء کا استعمال کیا۔
منفی اثرات
کرونا وائرس کو روکنے کے لیے پوری دُنیا میں لاک ڈاون لگانا پڑا، لاک ڈاون کی وجہ سے تمام اداروں کو بند کرنا پڑا جس سے ملکی معیشت کو نقصان ہوا ۔
لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گیے ملکی درآمدات اور برآمدات روک دی گیں ۔
بے روز گاری میں اضافہ ہوا۔
شرح نمو صفر سے بھی کم ہو گئی۔
روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ڈرائیور ریڑھی بان وغیرہ کو روزی کے لالے پڑ گیے
ملک کا تعلیمی نظام بُری طرح متاثر ہوا۔
اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
احتیاطی تدابیر
اگرچہ ابھی تک کرونا وائرس کی ویکسین نہیں بن سکی لیکن درجہ ذیل احتیاطی تدابیر سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں
اپنے ہاتھوں کو صابن سے بیس سیکنڈ تک دھوئیں۔
ہاتھوں پر ہینڈ سینی ٹائیزر کا استعمال کریں۔
منہ پر ماسک لگائیں۔
کم از کم چھ فٹ کا سماجی ٖفاصلہ رکھیں۔
بلا ضرورت گھر وں سے نہ نکلیں۔
علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ڈاکڑ سے رجوع کریں
