IMG_20201014_215047-449x445

جس طرح والدین ایک بچے کی جسمانی نشوو نما کرتے ہیں۔ اسے لباس و خوراک اور رہائش کی مکمل سہولیات پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح بچے کی روحانی نشوونما کیلئے استاد ہوتے ہیں۔ استاد انہیں جہالت کے گڑھے سے نکال کر علم کے نور کی طرف لے جاتا ہے۔ والدین اس کی جسمانی پرورش کرتے ہیں لیکن لیکن استاد اسے تعلیم یافتہ بنا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے استاد کی اہمیت بچے کیلئے والدین سے کچھ کم نہیں۔ استاد ہی نوجوانوں کو علوم فنون سے روشناس کرواتا ہے۔
یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو انبیاء کی وراثت ہے۔ ایک اچھا استاد ہی قوم کے بچوں کو تعلیم و تربیت سے بہرہ مند کرکے انہیں مفید شہری بنا سکتا ہے۔
قرآن مجید میں بار بار علم والوں اور جاہلوں کا آپس میں فرق بیان کیا گیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے: ” کیا جاننے والے (عالم) اور
نہ جاننے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں؟”
حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اپنے بارے میں ارشاد ہے:
” بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں”
حضرت علی کرم اللہ وجھہ فرماتے ہیں:
” جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا استاد ہے اور میں غلام ہوں، وہ چاہے تو مجھے آزاد کرے یا رکھ لے”
استاد محسن انسانیت ہے اور انسانیت کیلئے اس مقام اور مرتبے کا وسیلہ بنتا ہے۔ جسے کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” جب تک تم علم کو اپنا سب کچھ نہ دے دو علم تمہیں اپنا کوئی حصہ نہیں دے گا”۔
عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں علماء کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اس کے دونوں بیٹے مامون اور امین استاد کے جوتے اٹھانے کو باعث فخر سمجھتے تھے۔ اسی طرح سکندر اعظم جس نے تقریبا آدھی دنیا فتح کرلی تھی، اپنے استاد کے بارے میں کہا کرتے تھے: ” یہ سب میرے استاد کی بدولت ہے”
ایک اچھا معاشرہ اس وقت تک تشکیل نہیں پا سکتا جب تک اسے اچھے اساتذہ مہیا نہ ہوں۔ جب اچھے اساتذہ ملیں گے تو ان سے اچھے انجینئر اور سائنسدان بنیں گے اور یوں کوئی بھی ملک ترقی کرسکے گا۔

اتنی محبتوں سے پہلا سبق پڑھایا….
میں کچھ نا جانتا تھا سب کچھ مجھے سکھایا…

استاد یعنی معلم کے بغیر دنیا و آخرت کی تیاری ناممکن ھے علم کا سلسلہ گود سے گور تک جاری رہتا ہے اور اگر اچھا استاد مل جائے تو یہ دنیا بھی جنت وہ بھی جنت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *