“اللہ کی یا د اور شیطان کی چال “
ایک دفعہ ایک شخص را ت کی تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے جب ایک مدت گزر گئی ۔تو شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا اور اسے سوچنے پر مجبور کر دیا ۔ کہ اے شخص جو تم عبادت کرتے ہو اللہ نے کبھی تمہاری اس عبادت پر “لبیک ” کہا ہے ۔ اس شخص کے ذہن میں یہ خیال آنا ہی تھا کہ وہ پریشان ہو گیا۔ اور شکستہ خاطر ہو کر لیٹ گیا ۔ اس کے جواب میں حضرت خضر کی خواب میں زیارت ہوئی ۔آپ نے اس شخص سے پوچھا اے اللہ کے بندے تو اللہ کے ذکر سے رک کیوں گیا ۔کہنے لگا کہ میں ہر روز اللہ اللہ کر تا تھا لیکن جواب میں کبھی لبیک نہیں آیا ۔اس لیے میں اللہ تعا لیٰ کی بارگاہ میں مردود ہوں تو حضرت خضر نے جواب میں کہا کہ تمہارا عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کے کرم کی وجہ سے ہے۔اللہ تو تمہارے ہر لفظ کے بدلے لبیک کہتا ہے جب اس نے یہ سنا تو اس نے سچے دل سے توبہ کر لی کہ وہ شیطانی باتوں میں نہیں آئے گا اور اللہ کی عبادت صدق دل سے کیا کرے گا۔