صباء کی کہانی۔۔۔ صباء کی زبانی
میرا نام صباء ہے۔ میں ایک گاؤں میں رہتی ہوں۔میں پانچویں جماعت کی طالبہ ہوں۔ میرا ایک چھوٹا بھائی ہے۔ جس کا نام ارشد ہے۔ وہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے۔ ہم دونوں گھر سے اکھٹے سکول جاتے ہیں۔ ہمارا سکول گاؤں کے باہر ایک جانب واقع ہے۔ ایک دن میں اور میرا بھائی سکول جا رہے تھے کہ ہمیں راستے میں ایک تھیلا گرا ہوا ملا۔ میں نے وہ تھیلا اُٹھا لیا۔ اس میں کپڑوں کے سوٹ اور کچھ کاغذات تھے۔ اس میں اُس عورت کا شناختی کارڈ بھی موجود تھا۔میں نے ایڈریس پڑھا تو وہ ہمارے ساتھ والے گاؤں میں رہتی تھی۔ چنانچہ میں نے وہ تھیلا اس عورت تک پہنچانے کا ارادہ کر لیا۔ میں تھیلے کو گھر لے آئی اور اپنے والد صاحب کو سب کچھ بتا دیا۔میرے ابو نے جب کاغذات کو پڑھا تو وہ بہت قیمتی تھے۔وہ جلدی سے تھیلا واپس کرنے کے لیے دوسرے گاؤں اس عورت کے پاس گئے۔ میرے ابو نے اسے سارا واقعہ بیان کیا کہ کس طرح میری بیٹی کو یہ تھیلا ملا۔اس عورت نے میرے ابو کو میرے لیے 500 روپے بطور انعام دیئے کہ اپنی بیٹی کو دے دینا۔میں یہ انعام پا کر بہت خوش ہوئی۔سچ ہے کہ دوسروں کی چیزوں کو واپس کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔نتیجہ: ایمانداری کا صلہ دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے