ایک دوست ایک کہانی
ہمارے سکول میں ایک طالب علم تھا جو نہایت شرارتی ،بدتمیز ،اور بڑوں کا نافرما ن تھا ۔جو اپنےوالدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔اس کے والد کی اساتذہ سےبارہا شکایت کے باوجود وہ اپنی روش سے باز نہ آیا۔ چند دن بعد ہم نے دیکھا کہ وہ لڑکا سکول سے غیر حاضر ہو گیا ۔ وہ گھر سے تو سکول کے لیے رونہ ہوتا مگر سکول نہیں پہنچتا۔گھر والے سمجھتے کہ بچہ سکول حاضر ہے اور اساتذہ کرام سمجھتے کہ وہ گھر سے ہی نہیں آیا ۔دراصل وہ باہر آوارہ گردی کرکے گھر چلا جاتا تھا۔ اسی طرح وہ بری صحبت میں مبتلا ہوگیا ۔ علم ہونے پر ،والدین اور اساتذہ کے بارہا سمجھانے پر وہ اپنی حرکتوں پر قائم رہا ۔ جب میٹرک امتحانات کے داخلہ کا وقت آیا تو والدین اور اساتذہ نے مل کر کوششیں کیں کہ سکول حاضر ہو کر داخلہ فارم مکمل کرائے تاکہ امتحان میں شمولیت حاصل کرسکےمگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا ۔وہ نا سکول حاضر ہوا اور نہ ہی اس کا داخلہ جا سکا جس کےنتیجے میں اس اس کا تعلیمی دور اختتام پزیر ہوا۔جب وہ بیس سال کی عمر کو پہنچا تو والدین نے اس کی عادتیں سدھارنے کے لیے اس کی شادی قریبی رشہ داروں میں کردی ۔کچھ عرصہ اس نے محنت مزدوری کی اور کچھ بچت کرکے ایک گدھا گاڑی خرید لی۔کچھ عرصہ بعد میں اس سے ملا وہ میلے کپڑوں ،مٹی سے بھرے بالوں کے ساتھ گدھا ریڑہی پر سوار تھامیں نے اس کا حال احوال پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کے سر بھاری قرضہ ہے جو اس نے بچوں کی تعلیم اور باپ کے علاج کے لیے لیا تھا،جس کی آمدن پر گھر کا خرچہ چل رہا تھا۔اب وہ بمشکل روزی روٹی پوری کررہا تھا۔وہ اپنے ماضی پر بہت نادم تھا ،اور اپنے حال کی وجہ اپنے ماضی کی شرارتوں اور نافرمانیوں کو قرار دے رہا
تھا ۔لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔ میں کئی دنوں تک سوچتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ
با ادب بانصیب ،بے ادب بے نصیب
اخلاقی سبق
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں