Untitled

کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں

 حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں

 ہم کون ہیں کیا ہیں بخدا یاد نہیں

 اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں

 ہیں اگر یاد تو کافر کے ترانے بس

 ہے اگر یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں

 بنت آدم کو نچاتے ہیں سر محفل

 کتنے سنگدل ہیں رسم حیا یاد نہیں

 اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید

 سب کچھ یاد ہے یاد مگر یاد نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *