نظم
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں
ہم کون ہیں کیا ہیں بخدا یاد نہیں
اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں
ہیں اگر یاد تو کافر کے ترانے بس
ہے اگر یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں
بنت آدم کو نچاتے ہیں سر محفل
کتنے سنگدل ہیں رسم حیا یاد نہیں
اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ یاد ہے یاد مگر یاد نہیں