43b617c260ae06d6ab6318176f20be50

آرھی ھیں پھر صدائیں وادی کشمیر  سے

پکار رہی ہیں پھر عبائیں وادی کشمیر سے

اجڑی اجڑی ہوئی دلہن تربت اقبال پر

نوح کناں تھی وہ اپنے ماضی اور حال پر

کشمیر کا ذرہ ذرہ خوں میں نہا گیا

جب سے بھاررت ملعون ہم پر چھا گیا

پیرہن بھی لال ہوا اور دامن تار تار ہوا

ان کتوں نے نوچ لیا میرا حسن اور سنگھار

مانگ سجنے بھی نہ پائی تھی کہ اجڑ کر رہ گئی

شہنائی بجنے بھی نہ پائی تھی کہ تڑپ کررہ گئی

کسی پل بھی نہ آئے میرے دل کو چین

قسمت کو رو رہی ہوں کررہی ہوں بین

نا جانے میرے گلشن کو کس کی نظر لگ گئی

شہر سے شورش پڑھ گئی امن کی فاختہ اڑ گئی

دخران کشمیر سننے کو ہیں بے قرار

بن قاسم کی پکار بن قاسم کی پکار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *