کشمیر کی پکار
آرھی ھیں پھر صدائیں وادی کشمیر سے
پکار رہی ہیں پھر عبائیں وادی کشمیر سے
اجڑی اجڑی ہوئی دلہن تربت اقبال پر
نوح کناں تھی وہ اپنے ماضی اور حال پر
کشمیر کا ذرہ ذرہ خوں میں نہا گیا
جب سے بھاررت ملعون ہم پر چھا گیا
پیرہن بھی لال ہوا اور دامن تار تار ہوا
ان کتوں نے نوچ لیا میرا حسن اور سنگھار
مانگ سجنے بھی نہ پائی تھی کہ اجڑ کر رہ گئی
شہنائی بجنے بھی نہ پائی تھی کہ تڑپ کررہ گئی
کسی پل بھی نہ آئے میرے دل کو چین
قسمت کو رو رہی ہوں کررہی ہوں بین
نا جانے میرے گلشن کو کس کی نظر لگ گئی
شہر سے شورش پڑھ گئی امن کی فاختہ اڑ گئی
دخران کشمیر سننے کو ہیں بے قرار
بن قاسم کی پکار بن قاسم کی پکار