(سموگ ( نظم
یہ دھواں زندگی کا ہے دشمن دھواں
جینا مشکل کرے یہ ہے ایسا دھواں
سانس لینے کی دقت اسی کے سبب
کرے کمزور بینائی ایسا دھواں
یہ ترقی ہے بہتراے آدم مگر
زندگی نہ مٹا دے یہ بڑھتادھواں
مر ٖٖض قلب و نظر ہے مصیبت بڑی
اس مصیبت کی جڑ ہے یہ اڑتا دھواں